لال قلعہ پر جھنڈا لہرانے والا ’سکھ“ نہیں، بی جے پی کارکن: راکیش ٹکیت
نئی دہلی،28؍جنوری(ایس او نیوز؍ایجنسی) یوم جمہوریہ (26جنوری) پر ٹریکٹر پریڈ کے دوران تشدد کے واقعات کو لے کر ایک طرف جہاں دہلی پولیس نے کارروائی شروع کر دی ہے، وہیں بھارتیہ کسان یونین لیڈر راکیش ٹکیت کے اس الزام سے بی جے پی بیک فٹ پر آگئی ہے کہ لال قلعہ پر جھنڈا لہرانے والے دیپ سدھو سِکھ نہیں ہے، وہ بی جے پی کارکن ہے-
وزیر اعظم کے ساتھ اس کی تصویر بھی سامنے آچکی ہے-دوسری طرف تشدد کے بعد کسان یونین نے اپنا لہجہ نرم کیا ہے- سنگین حالات کے پیش نظر کسانوں نے یکم فروری کو بجٹ کے دن پارلیمنٹ مارچ کا منصوبہ منسوخ کردیا ہے-وہیں ’سنیوکت کسان مورچہ‘ نے چہارشنبہ کے روز پرامن مظاہرہ میں شامل بیشتر کسان تنظیموں کی ایمرجنسی میٹنگ طلب کی- کسان لیڈر بلبیر سنگھ راجیوال کی صدارت میں ہوئی اس میٹنگ میں ٹریکٹر پریڈ کے دوران ہوئے تشدد کے واقعات پر غور و خوض کیا گیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ مرکز کی مودی حکومت کسان تحریک سے بری طرح ہل گئی ہے- اس لیے کسان مزدور سنگھرس سمیتی اور دیگر کسان تنظیموں کے پرامن احتجاج کے خلاف ایک گندی سازش تیار کی گئی-
میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق ’سنیوکت کسان مورچہ‘ کی ایمرجنسی میٹنگ کے بعد ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ”جنھوں نے اس کسان تحریک کی شروعات کے15 دنوں بعد اپنا الگ احتجاجی مقام بنا لیا تھا، وہ مشترکہ طور پر مظاہرہ کرنے والی تنظیموں کا حصہ نہیں تھے- جب کسان تنظیموں نے26جنوری کو کسان پریڈ کا پروگرام بنایا، تو دیپ سدھو جیسے دوسرے سماج دشمن عناصر نے دوسری کسان تنظیموں کے ساتھ مل کر کسانوں کی تحریک کو ناکام کرنے کی کوشش کی-“
کسان تنظیموں کے مطابق اس سازش کے تحت دوسری کسان تنظیموں اور دیگر اشخاص نے اعلان کیا کہ وہ رِنگ روڈ پر مارچ کریں گے اور لال قلعہ پر جھنڈا لہرائیں گے- اس تنظیم نے ’کسان مزدور سنگھرس کمیٹی‘ کے مقررہ مارچ سے دو گھنٹے پہلے ہی مارچ کرنا شروع کر دیا- یہ عمل پرامن اور مضبوط کسان تحریک کو ناکام کرنے کی ایک گہری سازش تھی- ایسے میں ’سنیوکت کسان مورچہ‘ کی سبھی شریک پارٹیاں اس واقعہ کی سخت مذمت کرتی ہیں -کسان تنظیموں نے جاری بیان کے ذریعہ کسانوں سے یہ اپیل بھی کی کہ وہ دھرنا مقامات پر رہیں اور پرامن مظاہرہ جاری رکھیں - کسان تنظیموں نے اس تحریک کو جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا اور حکومت، انتظامیہ و سماج دشمن عناصر کی سخت الفاظ میں مذمت کی جنھوں نے پرامن کسان مظاہرہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی- سنیوکت کسان مورچہ کے مطابق27جنوری کو32تنظیموں کی ایمرجنسی میٹنگ بلائی گئی جس میں بلبیر سنگھ راجیوال اور جگجیت سنگھ ڈالیوال اور دَرشن پال کے ساتھ تمام کسان لیڈرس موجود رہے-